سیدھا جواب پہلے
جو پاکستانی یا دوسرے غیر ملکی سرمایہ کار برسوں سے تھائی نامینی کمپنیوں کے ذریعے ولا یا زمین خرید کر 'مالک' بنے بیٹھے ہیں، ان کے لیے 2026 کی خبر خطرے کی گھنٹی ہے۔ تھائی حکومت نے 1.27 ارب باہت (تقریباً 35 ملین ڈالر) مالیت کی 33 لگژری پراپرٹیز کو تحقیقات میں شامل کر لیا ہے، اور یہ سب زمین سمیت گھر ہیں، نہ کہ کنڈومینیم یونٹس۔ اگر آپ کا سرمایہ بھی اسی طرز کے ڈھانچے میں لگا ہے، تو اب فیصلہ کرنے کا وقت ہے، انتظار کا نہیں۔
بنکاک کے پٹاناکارن اور کرونگتھیپ کریٹھا علاقوں پر مرکوز اس تحقیقات کی تفصیلات The Nation Thailand نے شائع کی ہیں۔ سادہ الفاظ میں: کوئی غیر ملکی خریدار ایک تھائی کمپنی بناتا ہے جس میں تھائی شہری کاغذی طور پر اکثریتی حصص کے مالک دکھائے جاتے ہیں، جبکہ اصل فائدہ اور کنٹرول غیر ملکی کے پاس رہتا ہے۔ یہ طریقہ کئی دہائیوں سے مارکیٹ میں ایک 'خاموش رواج' کے طور پر چلتا رہا، مگر اب ریگولیٹرز نے وارننگ سے آگے بڑھ کر عملی کارروائی شروع کر دی ہے۔
تھائی قانون زمین کی ملکیت کے بارے میں کیا کہتا ہے؟
تھائی لینڈ کا لینڈ کوڈ (سیکشن 86) واضح طور پر غیر ملکی شہریوں کو براہ راست زمین کی ملکیت رکھنے سے روکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نامینی ڈھانچے وجود میں آئے، مگر قانونی طور پر یہ ہمیشہ سے ایک گرے ایریا رہا ہے، اور اب یہ گرے ایریا سرخ لکیر بنتا جا رہا ہے۔
نامینی اسکیم استعمال کرنے پر جو سزائیں لاگو ہوتی ہیں:
- اثاثوں کی ضبطی
- 20,000 باہت تک جرمانہ
- فارن بزنس ایکٹ کے تحت مجرمانہ کارروائی
- فارن بزنس ایکٹ (1999) کے تحت جرمانہ 10 لاکھ باہت تک اور 3 سال تک قید
- خلاف ورزی ثابت ہونے پر لینڈ کوڈ کے تحت 180 دن کے اندر زمین کی جبری فروخت، ورنہ ملکیت ریاست کو منتقل
تحقیقات کا دائرہ اور اہم اعداد و شمار
- زیرِ تحقیق پراپرٹیز کی اوسط مالیت تقریباً 38.5 ملین باہت (تقریباً 1.07 ملین ڈالر) ہے، یعنی نشانہ صاف طور پر پریمیم ولا سیگمنٹ ہے
- تحقیقات کی قیادت ڈیپارٹمنٹ آف لینڈز اور ڈیپارٹمنٹ آف اسپیشل انویسٹی گیشن (DSI) مشترکہ طور پر کر رہے ہیں
- یہ تحقیقات صرف گھروں اور زمین والے ولاز تک محدود ہیں، کنڈومینیم یونٹس اس کا حصہ نہیں کیونکہ قانونی تنازع خاص طور پر زمین کی ملکیت سے جڑا ہے
جنوبی تھائی لینڈ میں الگ بڑی کارروائی: پھکٹ، پھانگ نگا، کرابی
بنکاک کے علاوہ ایک اور بڑی کارروائی جنوب میں ہو چکی ہے، اور یہ خاص طور پر پھکٹ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے قابلِ غور ہے:
- 48 گرفتاریاں (27 تھائی شہری، 21 غیر ملکی، جن میں اسرائیل، فرانس، پولینڈ، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، نیدرلینڈز، روس اور جنوبی افریقہ کے شہری شامل ہیں)
- تقریباً 1.05 ارب باہت مالیت کے اثاثے ضبط، جو 89 زمین کے پلاٹس پر محیط ہیں
- آپریشن میں 500 سے زائد اہلکار شامل تھے، 40 گرفتاری وارنٹ منظور ہوئے اور 13 پر عمل درآمد کیا گیا
یہ اعداد و شمار بینکاک پوسٹ اور The Phuket News کی رپورٹس سے لیے گئے ہیں۔ مارکیٹ کے اندازوں کے مطابق پھکٹ میں غیر ملکیوں کی ملکیت والے ولاز میں سے تقریباً 70% تک کسی نہ کسی نامینی ڈھانچے پر مبنی ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ کارروائی یہاں تک بھی ضرور پہنچے گی۔
2025 میں بھی تھائی لینڈ نے غیر ملکی ملکیت والی تھائی کمپنیوں پر نظر سخت کر دی تھی، جب DBD (ڈیپارٹمنٹ آف بزنس ڈیویلپمنٹ) کے نظام کے ذریعے شیئر ہولڈر تصدیق کے چیکس شامل کیے گئے۔ یعنی یہ کریک ڈاؤن اچانک نہیں آیا، بلکہ ایک تسلسل کا نتیجہ ہے۔
کیا قانونی راستے اب بھی موجود ہیں؟
خوش قسمتی سے جواب ہاں میں ہے، اور یہی وہ حصہ ہے جو ہر سنجیدہ خریدار کو معلوم ہونا چاہیے:
- کنڈومینیم فری ہولڈ: غیر ملکی کسی بھی پراجیکٹ میں 49% تک کوٹے کے تحت کنڈومینیم یونٹ کی مکمل قانونی ملکیت رکھ سکتے ہیں۔ یہ نظام کنڈومینیم ایکٹ کے تحت آتا ہے اور موجودہ کریک ڈاؤن کا اس پر کوئی اثر نہیں۔
- لیز ہولڈ: زمین 30 سال کی لیز پر لی جا سکتی ہے، ساتھ ہی مزید دو اضافی مدتوں کی تجدید کا اختیار بھی ہوتا ہے۔ عمارت خود خریدار کے نام رجسٹرڈ ہو سکتی ہے۔ اس طریقے میں ضبطی کا کوئی خطرہ نہیں۔
- ایک اور راستہ حقیقی (نامینی نہیں) تھائی کمپنی کے ذریعے خریداری ہے جس کے پاس حقیقی کاروباری سرگرمیاں اور اصل تھائی پارٹنرز ہوں، مگر اس کے لیے مضبوط قانونی معاونت لازمی ہے۔
کنڈومینیم مارکیٹ اس پوری کارروائی سے مکمل طور پر محفوظ ہے۔
کیا تھائی لینڈ میں پراپرٹی خریدنا اب بھی فائدہ مند ہے؟
بالکل، بشرطیکہ ڈھانچہ درست ہو۔ کنڈومینیم مارکیٹ مکمل طور پر کھلی ہے، بنکاک میں کرائے کی آمدنی سالانہ 5-7% رہتی ہے، جبکہ پھکٹ میں پیشہ ورانہ طور پر منظم پراپرٹیز 8-10% تک منافع دے سکتی ہیں۔ اصل چیز لائسنس یافتہ وکلا کے ساتھ کام کرنا اور گرے ایریا کے ڈھانچوں سے دور رہنا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ کارروائی کوئی بحران نہیں بلکہ مارکیٹ کو شفاف بنانے کا عمل ہے۔ تھائی لینڈ آہستہ آہستہ زیادہ شفافیت کی طرف بڑھ رہا ہے، اور جو سرمایہ کار قانون کے دائرے میں رہ کر معاملات طے کریں گے، وہی طویل مدت میں فائدے میں رہیں گے۔ 2026 کا سب سے واضح اصول یہ ہے: معاہدے کی قانونی مضبوطی قیمت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ قانونی مشاورت پر بچت کرنا پورے سرمائے کے ڈوبنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر آپ تھائی لینڈ، خاص طور پر پھکٹ میں محفوظ اور قانونی طریقے سے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں، تو تھائی لینڈ پراپرٹی کی ٹیم آپ کو صحیح ڈھانچہ منتخب کرنے میں رہنمائی دے سکتی ہے۔
ماخذ: The Nation Thailand
